World
امریکہ کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے واک آؤٹ، فرانسیسی بیان پر کشیدگی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی مدت میں توسیع کے معاملے پر شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ امریکہ نے شمالی کوریا اور روس کے ساتھ مل کر مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد فرانس کے خیالات کے اظہار کے دوران امریکی وفد اجلاس سے باہر چلا گیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک انتہائی اہم اور ہنگامہ خیز اجلاس کے دوران اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب امریکی وفد نے فرانسیسی نمائندے کے ریمارکس کے دوران اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔ یہ سارا تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی تجویز پر رائے شماری کی گئی۔ اس رائے شماری کے دوران ایک غیر معمولی سفارتی صف بندی دیکھنے میں آئی جہاں امریکہ نے روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ مل کر اس توسیع کے خلاف ووٹ دیا۔ امریکہ کا ان ممالک کے ساتھ ووٹ دینا سفارتی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ روایتی طور پر واشنگٹن انسانی حقوق کے اداروں کی حمایت کرتا آیا ہے۔ جب فرانسیسی وفد نے اس فیصلے اور مجموعی صورتحال پر اپنے سخت خیالات کا اظہار کرنا شروع کیا تو امریکی نمائندے نے اجلاس میں بیٹھنے کے بجائے ہال سے باہر چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ سفارتی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ سلامتی کونسل کے اندر بڑھتے ہوئے گہرے اختلافات اور تناؤ کی غمازی کرتا ہے۔ اس واک آؤٹ نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ عالمی رہنماؤں اور سفارتی ماہرین کی جانب سے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے سلامتی کونسل کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں مزید متاثر ہوں گی۔