Business
نائیجیریا کا پی پی پی ماڈل افریقی تجارت کے لیے سنگ میل
نائیجیریا کا مقامی طور پر تیار کردہ کسٹمز ماڈرنائزیشن پروجیکٹ اب افریقہ میں براعظمی تجارت کے لیے ایک نیا نمونہ بن گیا ہے۔ یہ پیشرفت براعظم میں معاشی تعاون اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید تقویت فراہم کرے گی۔
نائجیریا کا مقامی سطح پر تیار کردہ کسٹمز ماڈرنائزیشن پروجیکٹ اب افریقہ بھر میں تجارت کو تقویت دینے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ اس حوالے سے انفراسٹرکچر کنسیشن ریگولیٹری کمیشن (آئی سی آر سی) کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل براعظم افریقہ میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک مثالی فریم ورک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ کامیابی ملک کی معاشی پالیسیوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ پروجیکٹ بنیادی طور پر افریقی کانٹی نینٹل فری ٹریڈ ایریا (AfCFTA) کے تحت چلنے والے تین اعشاریہ ایک بلین ڈالر کے بڑے تجارتی اقدام کے لیے ایک بنیادی نقشہ یا ٹیمپلیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ماڈل کی کامیابی سے نہ صرف نائیجیریا کی معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ پورے افریقی خطے میں تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے اور باہمی تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔
اس کامیاب پی پی پی ماڈل کے ذریعے کسٹمز کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے، جس سے سرحد پار تجارت میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی اور کارگو کلیئرنس کے عمل میں تیزی آئے گی۔ اس سے تاجروں کو سہولت میسر آئے گی اور سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی شفافیت آئے گی، جو کہ طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
حکام کا اس بات پر بھی زور ہے کہ اس طرح کے اشتراک سے نائیجیریا کو خطے میں ایک معاشی رہنما کے طور پر ابھرنے میں مدد مل رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس ماڈل کی پذیرائی سے اس بات کی توثیق ہوتی ہے کہ درست سمت میں کیے گئے اصلاحاتی اقدامات اور نجی شعبے کی شراکت داریاں کس طرح معاشی ڈھانچے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔