Business
اے آئی اور نوکریاں: راجیو ٹھکر کا ہندوستانی سرمایہ کاروں کے لیے اہم پیغام
پی پی ایف اے ایس کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر راجیو ٹھکر کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے آئی ٹی کی نوکریوں کے خاتمے کا خوف مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ انہوں نے تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی پرانے کردار ختم کرتی ہے لیکن نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔
پی پی ایف اے ایس (PPFAS) کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر راجیو ٹھکر نے ہندوستانی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے غیر ضروری خوف کا شکار نہ ہوں۔ ان کا ماننا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے آئی ٹی کی نوکریوں کے مکمل خاتمے کے خدشات مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ راجیو ٹھکر نے معروف تکنیکی تجزیہ کار بینیڈکٹ ایوانز (Benedict Evans) کے خیالات اور تاریخی آٹومیشن کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے، تو وہ ابتدائی طور پر شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے لیکن طویل المدت بنیادوں پر یہ معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
راجیو ٹھکر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تاریخی ارتقاء کی طرف اشارہ کیا کہ کس طرح ماضی میں ہر بڑی تکنیکی تبدیلی نے پرانے روایتی کرداروں کو ختم کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے متعدد نئے اور بہتر روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں بھی مصنوعی ذہانت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو ختم نہیں کرے گی بلکہ اس کی نوعیت کو بدل دے گی۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نفاذ (implementation)، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا مینجمنٹ اور دیگر تکنیکی شعبوں میں ماہرین کی نئی مانگ پیدا ہو رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ اے آئی کے اوزار اور آٹومیشن روایتی کوڈنگ اور معمولی نوعیت کے کاموں کو خودکار بنا رہے ہیں، لیکن اس سے انسانوں کی تخلیقی صلاحیتوں اور اسٹریٹجک سوچ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی انڈسٹری نے ماضی میں بھی اس طرح کے کئی تکنیکی انتقالات کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اور Y2K کے زمانے سے لے کر کلاؤڈ کمپیوٹنگ تک ہر موقع پر خود کو نئی صورتحال کے مطابق ڈھالا ہے۔ راجیو ٹھکر کا یہ تجزیہ ان سرمایہ کاروں کے لیے تسلی بخش ہے جو اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتے تھے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو محض خوف کی بنیاد پر اپنے فیصلے تبدیل کرنے کے بجائے مارکیٹ کے طویل مدتی رجحانات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ بینیڈکٹ ایوانز کے تجزیات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تکنیکی انقلاب محض رکاوٹ نہیں بلکہ ترقی کا ایک نیا زینہ ہے۔ ہندوستانی کمپنیاں اگر اے آئی کے اس دور میں اپنی صلاحیتوں کو اپ ڈیٹ کریں اور نئے شعبوں بالخصوص سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر توجہ مرکوز کریں، تو وہ مستقبل میں بھی عالمی منڈی میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گی۔