Technology
اسپاٹیفائی کا مصنوعی ذہانت کے فنکاروں کے لیے نئے بیجز کا اعلان
مقبول میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے آرٹسٹ پروفائجز کو واضح کرنے کے لیے 'اے آئی پرسنہ' بیجز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد صارفین کو حقیقی فنکاروں اور مصنوعی ذہانت کے تخلیق کردہ مواد میں واضح فرق بتانا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی نے ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پلیٹ فارم پر موجود ایسے تمام آرٹسٹ پروفائجز اور گانوں پر 'اے آئی پرسنہ' (AI Persona) کے بیجز لگائے جائیں گے جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد صارفین کو یہ واضح طور پر بتانا ہے کہ وہ جو موسیقی سن رہے ہیں، اسے کسی انسان نے تخلیق کیا ہے یا پھر یہ کسی کمپیوٹر الگورتھم اور اے آئی ٹول کا کارنامہ ہے۔
حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے موسیقی کی تخلیق میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ پر جعلی یا مصنوعی فنکاروں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ عام صارفین کے لیے یہ جاننا مشکل ہوتا جا رہا تھا کہ ان کا پسندیدہ فنکار کوئی حقیقی انسان ہے یا صرف ایک ڈیجیٹل شناخت۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اسپاٹیفائی نے یہ پالیسی بنائی ہے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ نئے بیجز لگنے کے بعد شائقین کے لیے یہ جاننا انتہائی آسان ہو جائے گا کہ وہ کس قسم کی تخلیق کو سن رہے ہیں اور اس کے پیچھے کس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، اسپاٹیفائی کی اس نئی حکمت عملی کا ایک اور اہم حصہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اس موسیقی کو صارفین کی ذاتی تجاویز (Personal Recommendations) سے باہر رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پلیٹ فارم کا الگورتھم اے آئی پرسنہ رکھنے والے گانوں کو عام طور پر ہر صارف کی روزانہ کی پلے لسٹس یا سفارشات میں نمایاں نہیں کرے گا۔ اس قدم سے جہاں ایک طرف حقیقی انسانی فنکاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی، وہیں دوسری طرف سامعین کو ان کی پسند کے مطابق مستند اور حقیقی انسانی آوازیں ہی زیادہ تر سننے کو ملیں گی۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین اور موسیقی کی صنعت سے وابستہ افراد نے اسپاٹیفائی کے اس فیصلے کو سراہا ہے کیونکہ اس سے ڈیجیٹل کاپی رائٹ اور تخلیق کاروں کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں یہ قدم انڈسٹری میں ایک نیا معیار قائم کرے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اسپاٹیفائی اس فیچر کو عالمی سطح پر نافذ کر دے گا، جس سے تمام صارفین کو اے آئی اور غیر اے آئی مواد کے درمیان واضح تمیز دیکھنے کو ملے گی۔