LIVE
Loading Breaking News...

کیمبرج یونیورسٹی میں جیسن آرڈے کی تقرری پر آزادانہ تحقیقات کا اعلان

News Image
کیمبرج یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈیبورا پرینٹس نے واضح کیا ہے کہ پروفیسر جیسن آرڈے کی تقرری کے حوالے سے کی جانے والی جائزہ کارروائی مکمل طور پر آزادانہ ہوگی۔ انہوں نے عملے کو لکھے گئے ایک خط میں اس تقرری پر اٹھائے جانے والے خدشات کا اعتراف بھی کیا ہے۔
برطانیہ کی معروف کیمبرج یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ پروفیسر جیسن آرڈے کی تقرری کے حوالے سے کی جانے والی جائزہ کارروائی مکمل طور پر آزادانہ ہوگی۔ اس بات کا اعلان یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈیبورا پرینٹس کی جانب سے کیا گیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں یونیورسٹی کے عملے کو ایک خط ارسال کیا تھا۔ اس خط میں انہوں نے اس تقرری کے معاملے پر اساتذہ اور عملے کی طرف سے اٹھائے جانے والے خدشات اور سوالات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کا اعتراف کیا ہے۔ وائس چانسلر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تعلیمی حلقوں میں اس تقرری کے طریقہ کار اور دیگر امور پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی شفافیت کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا۔ یونیورسٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق، وائس چانسلر ڈیبورا پرینٹس نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی اعلیٰ ترین تعلیمی اور انتظامی معیارات پر کاربند رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسن آرڈے کی تقرری کے معاملے کا جائزہ کسی بھی بیرونی یا اندرونی دباؤ کے بغیر مکمل غیر جانبداری کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ اس آزادانہ جائزے کا بنیادی مقصد تمام حقائق کو سامنے لانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تقرری کے عمل میں تمام ضابطوں اور اصولوں کی مکمل پاسداری کی گئی ہو۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس قدم کو تعلیمی اور انتظامی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ادارے کی ساکھ اور شفافیت مزید مستحکم ہوگی۔ پروفیسر جیسن آرڈے کی کیمبرج یونیورسٹی میں تقرری نے حالیہ دنوں میں برطانوی میڈیا اور تعلیمی برادری کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی تھی۔ یونیورسٹی کا یہ حالیہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ انتظامیہ اپنے اداروں میں احتساب کے عمل کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور کسی بھی متنازع معاملے پر بروقت اور واضح ردعمل دینے سے گریز نہیں کرتی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس آزادانہ جائزے کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس معاملے سے متعلق تمام ابہامات دور ہو جائیں گے اور یونیورسٹی کے فیصلے کے تمام قانونی اور تعلیمی پہلو واضح ہو کر سامنے آ جائیں گے، جس سے ادارے کا اندرونی ماحول بھی پرسکون ہوگا۔