World
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینی خاندانوں پر تشدد اور محاصرہ
مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کا محاصرہ جاری ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز وہاں سے ہٹ گئی ہیں جبکہ درجن بھر آباد کار تاحال موقع پر موجود ہیں۔
مغربی کنارے کے ایک دور افتادہ گاؤں میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب اطلاعات کے مطابق اسرائیلی آباد کاروں نے دو فلسطینی خاندانوں کا مکمل محاصرہ کر لیا۔ اتوار کے روز سے جاری اس محاصرے کے دوران فلسطینی خاندان شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں کیونکہ مقامی سطح پر انہیں شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ یہ واقعہ مقبوضہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آباد کاروں کی سرگرمیوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
حاصل ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز مبینہ طور پر جائے وقوعہ سے واپس چلی گئی ہیں، جس کے بعد سے صورتحال مزید تشویشناک ہو چکی ہے۔ فورسز کے انخلا کے بعد بھی تقریباً ایک درجن کے قریب اسرائیلی آباد کار موقع پر موجود ہیں اور انہوں نے فلسطینی خاندانوں کے گھروں کے اطراف میں گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ اس صورتحال نے مقبوضہ مغربی کنارے میں امن و امان کے مسائل کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
مقامی انسانی حقوق کے کارکنان اور علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ محاصرے میں پھنسے ہوئے خاندانوں کو فوری طور پر طبی امداد، خوراک اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ تاحال مقامی انتظامیہ یا سرکاری حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔