World
اسرائیلی قید سے رہا ہونے والے ساٹھ فلسطینی غزه واپس، مظالم کا انکشاف
اسرائیل کی حراست سے رہائی پانے والے ساٹھ فلسطینی واپس غزه پہنچ گئے ہیں جن میں سے بعض وہیل چیئر پر بھی موجود تھے۔ ان افراد نے اسرائیلی جیلوں میں اپنے اوپر ہونے والے ہولناک اور شدید جسمانی و ذہنی تشدد کی داستانیں بیان کی ہیں۔
اسرائیل کی حراست سے رہائی پانے والے ساٹھ فلسطینی باشندے جمعے کے روز طویل قید کے بعد اپنے آبائی علاقے غزه واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان افراد کی واپسی کے مناظر انتہائی دلخراش تھے کیونکہ ان میں سے کئی افراد کو شدید جسمانی کمزوری اور بیماری کے باعث وہیل چیئر پر سفر کرنا پڑا۔ غزه پہنچنے والے ان فلسطینیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی حراست کے دوران پیش آنے والے ہولناک اور انسانیت سوز مظالم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ رہا ہونے والے قیدیوں کا کہنا تھا کہ انہیں جیلوں میں انتہائی غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑا اور روزانہ کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قید کے دوران انہیں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے ان کی جسمانی حالت اس نہج پر پہنچ گئی کہ وہ خود چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔ ان افراد کے مطابق تفتیش کے دوران انہیں مختلف طریقوں سے ذہنی اور جسمانی اذیت دی گئی تاکہ انہیں توڑا جا سکے، تاہم ان کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سے قبل بھی فلسطینی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ غزه میں اس قافلے کی واپسی کے بعد مقامی شہریوں اور رشتہ داروں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ متاثرہ افراد اب اپنے طبی معائنے اور علاج کی غرض سے مقامی ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ ان کے زخموں کا مداوا کیا جا سکے اور وہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔