LIVE
Loading Breaking News...

مکہ معاہدہ: مغربی ایشیا میں تبدیل ہوتے سکیورٹی حرکیات اور امریکہ

News Image
مکا جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ایک تاریخی سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی اور نئے علاقائی اتحادوں کے ابھرنے کا عندیہ ملتا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو دستخط ہونے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (Mecca Joint Defense Agreement) مغربی ایشیا کی سیاست اور سکیورٹی کے منظر نامے میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ خطے کا پہلا باضابطہ علاقائی سکیورٹی معاہدہ ہے جو روایتی مغربی اور بالخصوص امریکی سرپرستی کے بغیر تشکیل پایا ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی طاقتوں، خاص طور پر واشنگٹن کے حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ خطے کے ممالک کی خودمختار دفاعی صلاحیتوں اور باہمی تعاون کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاہدے سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک مضبوط تزویراتی کڑی جڑ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی پالیسیوں اور خطے میں اس کی کم ہوتی ہوئی عسکری و سیاسی دلچسپی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے ان مسلم ممالک نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ مکہ معاہدہ نہ صرف دفاعی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ یہ معاشی اور سفارتی سطح پر بھی ایک نئے بلاک کی تشکیل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے خطے کے امن و استحکام پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکہ کے لیے یہ صورتحال سفارتی سطح پر ایک بڑا دھکا ہے کیونکہ واشنگٹن طویل عرصے سے مغربی ایشیا کے سیکورٹی ڈھانچے کا مرکزی محور رہا ہے۔ اب جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے اہم اثر و رسوخ کے حامل ممالک نے باہمی مشاورت سے دفاعی لائحہ عمل تیار کیا ہے، تو اس سے امریکہ کی خطے میں بلیک میلنگ اور دباؤ کی پالیسیوں کی افادیت کم ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے بین الاقوامی تعلقات پر مزید گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس سکیورٹی فریم ورک کا حصہ بننے پر غور کر سکتے ہیں۔