LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک کا بڑا فیصلہ، ملازمین کے لیے ہفتے میں پانچ دن دفتر آنا لازمی قرار

News Image
ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفی اور نیشویل آفس کی بندش کے بعد ٹک ٹاک نے امریکہ میں اپنے عملے کے لیے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اب کمپنی کے زیادہ تر ملازمین کو ستمبر سے ہفتے میں پانچ دن لازمی طور پر دفتر آکر کام کرنا ہوگا۔
مشہور ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے امریکہ میں اپنے عملے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سخت فیصلے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب ملازمین کو ہفتے میں پانچ دن لازمی طور پر دفتر آکر کام کرنا ہوگا۔ حال ہی میں کمپنی نے اپنے 250 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے اور نیشویل میں واقع اپنا دفتر مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جس نے پہلے ہی ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ اب اس تازہ ترین حکم نامے نے ملازمین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ٹیکنالوجی کی دنیا میں کام کرنے والی یہ معروف کمپنی بھی اب اسی راستے پر چل نکلی ہے جو اس سے قبل ایمازون اور انسٹاگرام جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں نے اختیار کیا تھا۔ ان کمپنیوں نے وبائی امراض کے دور میں شروع ہونے والی لچکدار اور گھر سے کام کرنے کی پالیسیوں کو ختم کرتے ہوئے عملے کی روایتی دفتری حاضری کو لازمی قرار دیا ہے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ کا ماننا ہے کہ باقاعدگی سے دفتر میں موجودگی سے ملازمین کے درمیان باہمی تعاون، کارکردگی اور تخلیقی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔تاہم، ٹک ٹاک کے اس اقدام کو امریکی ملازمین کی طرف سے شدید مخالفت اور حیرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زیادہ تر ملازمین جو ریموٹ ورک یا ہائبرڈ ماڈل کے عادی ہو چکے تھے، ان کے لیے اچانک ہفتے میں پانچ دن دفتر کا چکر لگانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کمپنی میں ملازمین کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ کچھ اعلیٰ صلاحیت کے حامل افراد بہتر شرائط کے لیے دوسری کمپنیوں کا رخ کریں۔