LIVE
Loading Breaking News...

برائن مے کا مصنوعی ذہانت کے خلاف سخت بیان

News Image
برطانوی راک بینڈ کوئین کے لیجنڈری گٹارسٹ برائن مے نے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیا کو انسانیت کے مقابلے میں اے آئی ٹیکنالوجی کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے۔
مشہور برطانوی راک بینڈ کوئین کے لیجنڈری گٹارسٹ برائن مے نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے اثرات پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جدید دور میں انسانیت کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ ٹیکنالوجی معاشرے کے لیے فائدے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے برائن مے نے نہ صرف اے آئی کے تخلیقی اور اخلاقی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے یعنی انفراسٹرکچر سے ماحول اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے خصوصاً برطانیہ کے تناظر میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اے آئی سسٹمز کو چلانے کے لیے درکار بھاری بھرکم انفراسٹرکچر ملک پر کیا اثرات مرتب کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے حالیہ برسوں میں موسیقی، آرٹ، اور دیگر تخلیقی صنعتوں میں تیزی سے قدم رکھا ہے، جس پر دنیا بھر کے فنکاروں اور موسیقاروں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ فنکار اسے ترقی کا نام دیتے ہیں تو وہیں برائن مے جیسے قدآور موسیقار اس کے انسانی اقدار پر پڑنے والے منفی اثرات کو لے کر سخت پریشان ہیں۔ برائن مے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی کے ضابطہ کار اور اس کے لامحدود استعمال پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معروف شخصیات کی جانب سے اس طرح کے بیانات ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں تاکہ انسانی تخلیقیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔