LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا اور چین کا ادویات اور خوراک کے ضابطہ کار میں تعاون

News Image
انڈونیشیا کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے ادویات، ویکسینز اور خوراک کی نگرانی کے شعبے میں چین کے ساتھ دو طرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طبی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا اور ضابطہ کاری کے نظام کو مربوط کرنا ہے۔
جکارتا (اے این ٹی اے آر اے) — انڈونیشیا کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (بی پی او ایم) نے ادویات، ویکسینز، قدرتی ادویات اور خوراک کی حفاظت کے شعبے میں چین کے ساتھ ریگولیٹری تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان طبی اور غذائی مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانا اور دو طرفہ تجارت کے ساتھ ساتھ پبلک ہیلتھ کے تحفظ کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ حالیہ ملاقاتوں اور رابطوں کے دوران دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ گلوبل سپلائی چین اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تجربات کا تبادلہ انتہائی ضروری ہے۔ انڈونیشیا کی جانب سے ویکسین کی تیاری اور ریگولیٹری امور میں چین کی جدید مہارت اور تکنیکی معاونت حاصل کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے مقامی سطح پر طبی سہولیات کو مزید فروغ ملے گا۔ اس معاہدے اور شراکت داری کے تحت، دونوں ممالک کے ریگولیٹری ادارے حفاظتی معیارات، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور مارکیٹ سرویلنس کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔ اس سے نہ صرف صارفین کے لیے محفوظ اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی ہوگی بلکہ ادویات اور خوراک کی درآمد و برآمد کے عمل میں بھی شفافیت آئے گی اور دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔