World
ٹیکساس حراستی مرکز کی مدت میں توسیع اور انسانی حقوق کے مسائل
امریکہ کے ادارہ برائے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے ٹیکساس کے متنازع حراستی مرکز کا لیز بڑھا دیا ہے۔ اس حراستی مرکز میں گزشتہ سال اپنے قیام کے بعد سے اب تک تین تارکین وطن جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ٹیکساس میں واقع اس متنازع حراستی مرکز کے معاہدے میں توسیع کر دی ہے جہاں گزشتہ ایک سال کے دوران تین تارکین وطن کی ہلاکتیں واقع ہو چکی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس مرکز میں قیدیوں کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک اور طبی سہولیات کی فقدان کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ کیمپ ایسٹ مونٹانا نامی اس حراستی مرکز کو پچھلے سال ہی تارکین وطن کو رکھنے کے لیے کھولا گیا تھا، لیکن اپنے آغاز سے ہی یہ تنقید کی زد میں ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے مراکز کے معاہدے بڑھانے کے بجائے ان کی سکیورٹی اور طبی انتظامات کا سخت محاسبہ کرنا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔ حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ توسیع ملکی سلامتی اور بارڈر مینجمنٹ کی پالیسیوں کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، تاہم وہ حراستی مراکز میں شفافیت اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ دوسری جانب، تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور ملک گیر احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حراستی مراکز تارکین وطن کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا سبب بن رہے ہیں، اس لیے یہاں حالات بہتر بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔