LIVE
Loading Breaking News...

ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ اور توسیع

News Image
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین حالیہ دفاعی معاہدے کو خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اب اس علاقائی دفاعی معاہدے کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کے خواہاں ہیں۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ایک اہم علاقائی دفاعی معاہدے کو مزید وسعت دینے کا عندیہ دیا ہے جس نے عالمی سطح پر سیاسی اور عسکری حلقوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے اس عسکری اور دفاعی معاہدے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت تینوں برادر اسلامی ممالک نے باہمی سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مثلث کی جوائنٹ ملٹری صلاحیتیں خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گی۔ اس حوالے سے بین الاقوامی میڈیا اور تھنک ٹینکس بشمول اٹلانٹک کونسل کا کہنا ہے کہ اس دفاعی معاہدے کی ساخت تکنیکی طور پر نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 جیسی ہی ہے، جس کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ ترک وزراء کے بیانات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ معاہدہ محض علامتی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور عملی دفاعی فریم ورک ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی مسلح افواج روایتی اور جدید جنگی صلاحیتوں سے لیس ہیں اور ان کا باہمی اتحاد خطے کے امن اور دفاعی خود کفالت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اس دفاعی معاہدے کو مزید وسعت دینے کے خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں دیگر علاقائی اور دوست ممالک کے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف عسکری تربیت، دفاعی پیداوار اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں بہتری آئے گی بلکہ معاشی اور سفارتی سطح پر بھی تینوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نوعیت کے علاقائی معاہدے بیرونی جارحیت کے خلاف ایک مؤثر رکاوٹ بنتے ہیں اور خطے میں کسی بھی قسم کی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے عوام اور حکومتیں اس تعاون کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تحت مشترکہ عسکری مشقوں اور دفاعی صنعت میں اشتراکِ عمل میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔