LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا مانع حمل اشیاء کا منصوبہ خامیوں کا شکار، پارلیمانی رپورٹ

News Image
پارلیمانی پینل نے پاکستان کے مانع حمل اشیاء کے اہم منصوبے میں منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے نیشنل ایکشن پلان آن پاپولیشن کے اہداف، مالیاتی استعمال اور اشیاء کی خریداری کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے کنٹرول کے لیے شروع کیا جانے والا مانع حمل اشیاء کا اہم منصوبہ سنگین نوعیت کی منصوبہ بندی اور نفاذ کی خامیوں کا شکار ہو گیا ہے۔ پارلیمانی پینل نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اس پراجیکٹ کے بنیادی ڈھانچے اور اہداف کے حصول میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، جس سے حکومتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ فنڈز کے درست استعمال اور بروقت فیصلوں میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، نیشنل ایکشن پلان آن پاپولیشن (2021-2026) کے تحت مقرر کردہ اہداف، مالی وسائل کے استعمال اور ضروری اشیاء کی خریداری کے عمل میں بھی نمایاں خامیاں پائی گئی ہیں۔ سینیٹ کی کمیٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر ملک میں آبادی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کرنا ہے تو اس طرح کے اہم منصوبوں میں شفافیت، بہتر منصوبہ بندی اور فوری عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ فنڈز کی دستیابی کے باوجود مطلوبہ نتائج کا حاصل نہ ہونا انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کا فوری سدباب کیا جانا ناگزیر ہے۔ متعلقہ حکام نے پارلیمانی پینل کو پراجیکٹ میں موجود خامیوں اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے بریفنگ دی، تاہم کمیٹی نے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ پینل نے سفارش کی ہے کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون کو فروغ دیں اور ایک مربوط حکمت عملی تیار کریں تاکہ مستقبل میں مانع حمل اشیاء کی فراہمی میں کسی قسم کی تعطل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ، عوامی سطح پر آگاہی مہم کو بھی تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ اس منصوبے کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔