LIVE
Loading Breaking News...

اسٹاک فیوچرز میں تیزی، مہنگائی کے اعداد و شمار اور اے آئی شیئرز کا کردار

News Image
حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار اور مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص میں نمایاں تیزی کے بعد اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اس رپورٹ کو وفاقی ریزرو کے آئندہ فیصلوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
نیویارک سے موصول ہونے والی اقتصادی رپورٹس کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز میں بدھ کے روز نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس مثبت رجحان کی بنیادی وجہ مہنگائی کے تازہ ترین اعتدال پسند اعداد و شمار اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) سے جڑے ہوئے شیئرز میں اچانک آنے والا بڑا ابال ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹس سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ امریکہ میں صارفین کی قیمتوں اور افراط زر سے متعلق جاری ہونے والی رپورٹس نے سرمایہ کاروں کو بڑی حد تک مطمئن کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باعث جولائی کے مہینے میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً معتدل رہی ہے جو کہ معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کے آئندہ مانیٹری پالیسی کے فیصلوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے، جس پر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کے شعبے بالخصوص مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مستقبل کے روشن امکانات کے پیش نظر سرمایہ کار ان کمپنیوں میں بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس رحجان نے مجموعی طور پر ٹیکنالوجی انڈیکس کو سہارا دیا ہے اور مارکیٹ کے عمومی رجحان کو اوپر کی طرف دھکیلا ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر مہنگائی کی شرح میں کمی کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو وفاقی ریزرو شرح سود میں اضافے کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ اس صورت حال میں نہ صرف اسٹاک مارکیٹس بلکہ مجموعی عالمی معیشت پر بھی اس کے خوش آئند اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ سرمایہ کار اب آئندہ آنے والے معاشی اشاریوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ کے طویل مدتی سمت کا اندازہ لگایا جا سکے_۔