World
شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، امریکہ اور جنوبی کوریا پر تنقید
شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے آغاز سے قبل ایک اور میزائل فائر کر دیا ہے۔ پیانگ یانگ ان مشقوں کو ہمیشہ اپنے خلاف حملے کی تیاری اور جارحیت قرار دیتا ہے۔
شمالی کوریا نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی میں اضافہ کرتے ہوئے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے آغاز سے قبل ایک اور میزائل فائر کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین اقدام نے جزیرہ نما کوریا میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے اور علاقائی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں اتحادی ممالک آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر دفاعی مشقیں شروع کرنے والے ہیں جن کا مقصد ممکنہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو بہتر بنانا ہے۔ پیانگ یانگ نے ان فوجی مشقوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں اپنے ملک پر حملے کی ریہرسل قرار دیا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ یہ مشقیں خطے کے طاقت توازن کو بگاڑ رہی ہیں اور اس کے جواب میں وہ بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے میزائل تجربات سے نہ صرف کوریا کے دونوں حصوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی سفارتی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کسی بھی بڑی جنگی صورتحال سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب واشنگٹن اور سیول کا مؤقف ہے کہ یہ مشقیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں خطے کی صورتحال مزید کشیدہ رہنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔