LIVE
Loading Breaking News...

جنرال اسماعیل قاآنی کا دورہ عراق اور عراقی تخفیفِ اسلحہ منصوبہ

News Image
ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قاآنی نے عراقی حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان مذاکرَات کا بنیادی مقصد عراقی حکومت کے اس منصوبے پر تبادلہ خیال کرنا تھا جس کے تحت مسلح گروہوں کو غیر مسلح کر کے ہتھیار ریاست کی تحویل میں لائے جانے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قاآنی نے حال ہی میں عراق کا ایک اہم دورہ کیا ہے جس کے دوران انہوں نے عراقی قیادت اور سکیورٹی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس دورے کا اصل مقصد عراقی حکومت کی جانب سے تیار کردہ اس جامع منصوبے پر بات چیت کرنا تھا جس کا ہدف ملک میں موجود مختلف مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور تمام تر عسکری طاقت کو براہ راست ریاست کے کنٹرول میں لانا ہے۔ یہ منصوبہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور عراقی خودمختاری کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ مانا جا رہا ہے۔ ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی سکیورٹی کے چیلنجز اور عراقی سرحدوں پر امن و امان کی بحالی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عراقی حکام نے ایرانی مندوب کو اپنے اس عزم سے آگاہ کیا کہ بغداد حکومت ملک کے اندر موجود تمام غیر ریاستی مسلح عناصر کو قانون کے دائرے میں لانا چاہتی ہے اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز اور عملی اقدامات پر بھی غور کیا گیا تاکہ منتقلی کا یہ عمل پرامن طریقے سے پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔ ماہرین کے مطابق ایران کا اس معاملے میں عراقی حکومت کے ساتھ تعاون خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے کیونکہ عراق میں استحکام ایران سمیت پورے خطے کی سکیورٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے دوران کئی سیاسی اور عسکری چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم عراقی حکومت اپنی داخلی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید عملی اقدامات سامنے آئیں گے جو عراقی ریاست کی پوزیشن کو مزید مستحکم کریں گے۔