World
ٹرمپ کے خفیہ دورے اور ڈیکوئی طیارے سے متعلق اہم انکشاف
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد خفیہ پرواز کی تبدیلی کے دوران ان کے نقلی یا ڈیکوئی طیارے کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ طیارہ تبدیلی کا واقعہ گزشتہ ماہ جولائی کی 8 تاریخ کو پیش آیا تھا جسے اب سامنے لایا گیا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ان کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی خفیہ اقدام اٹھایا گیا تھا۔ اس عمل کے تحت پرواز کی شیڈول میں تبدیلی کی گئی اور ایک ڈیکوئی یعنی نقلی طیارہ بھی استعمال کیا گیا تاکہ ممکنہ سکیورٹی خدشات اور خطرات سے نمٹا جا سکے۔ ٹرمپ کے مطابق اس پرواز کی تبدیلی کے دوران اصل طیارے کے بجائے استعمال ہونے والے ڈیکوئی طیارے کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ تمام عمل انتہائی رازداری میں انجام پایا تھا۔ یہ واقعہ رواں برس جولائی کی آٹھ تاریخ کو نیٹو کے اہم سربراہی اجلاس کے فوراً بعد پیش آیا تھا، تاہم اس بات کو حکام نے انتہائی صیغہ راز میں رکھا اور اس کا انکشاف اب جا کر کیا گیا ہے۔ اس طرح کی حکمت عملی عام طور پر اعلیٰ ترین شخصیات کی نقل و حرکت کے دوران ان کی جان کو لاحق خطرات کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جہاں ایک ہی وقت میں ایک سے زائد طیارے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ اصل ہدف کا سراغ لگانا دشمن یا کسی بھی غیر متعلقہ فریق کے لیے ناممکن بنایا جا سکے۔ اس تازہ ترین بیان کے بعد سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور اس سکیورٹی پروٹوکول پر بحث شروع ہو گئی ہے جسے سابق امریکی صدر کے دورے کے دوران بروئے کار لایا گیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی رہنماؤں کے دوروں میں اس قسم کے اقدامات اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے، لیکن ڈیکوئی طیارے کو جان بوجھ کر زیادہ خطرے میں ڈالنے کا انکشاف اس واقعے کو مزید ڈرامائی بنا دیتا ہے۔