Politics
نارویجن وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان 2026، تجارت اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر 13 سے 14 اگست کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ ایک دہائی میں کسی نارویجن وزیر خارجہ کا پہلا دورہ پاکستان ہوگا جس میں دو طرفہ تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری پر بات چیت کی جائے گی۔
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی 13 اور 14 اگست کو پاکستان کا ایک اہم سرکاری دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ دورہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر عمل میں آ رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک دہائی کے طویل عرصے کے بعد کسی نارویجن وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہوگا، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات میں ایک نئے باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
دورے کے دوران، پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے نارویجن ہم منصب کے درمیان وفد کی سطح پر باضابطہ مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں پاکستان اور ناروے کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی، تعلیم اور عوامی سطح پر رابطوں کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی اہم پیش رفت پر بھی گفتگو کی جائے گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق نارویجن وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور تسلیم کیا ہے۔ یہ دورہ پاکستان اور ناروے کے درمیان طویل مدتی اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے نئے شعبوں میں تعاون تلاش کرنے کا ایک بہترین موقع فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی میں ناروے کے دورے کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی تھی جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ناروے کے پاس قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی جدید ٹیکنالوجی موجود ہے، اور پاکستان اس شعبے میں نارویجن سرمایہ کاری کو خوش آئند سمجھتا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی پیش رفت ہوگی۔