Politics
پاکستان میں طویل المدتی منصوبہ بندی اور گورننس کے مسائل
پاکستان کے حکومتی نظام میں طویل المدتی منصوبہ بندی اور مستقبل کی پیش گوئی کے کلچر کی شدید کمی ہے، جو بار بار آنے والے مالیاتی اور سیاسی بحرانوں کی بڑی وجہ بنتی ہے۔ دیگر ممالک نے اپنے اداروں میں مستقل بنیادوں پر مستقبل کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے جو نظام بنائے ہیں، پاکستان کو بھی اسی نہج پر سوچنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے حکومتی ڈھانچے کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں طویل المدتی حکمت عملی کے بجائے ہمیشہ ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں ایسے موثر ادارے اور میکانزم قائم نہیں ہو سکے جو آنے والے عشروں کے چیلنجز کا پیشگی ادراک کر کے پالیسی سازی میں مدد فراہم کریں۔ پاکستان اسٹیٹ آف فیوچر انڈیکس (PK-SOFI) جیسے اقدامات کے باوجود، ملکی انتظامیہ میں مستقبل کی منصوبہ بندی کو کبھی بھی بنیادی اہمیت حاصل نہیں رہی۔ بجٹ کی تیاری ہو، ترقیاتی منصوبے ہوں یا وزارتوں کی ترجیحات کا تعین، ہر سطح پر فوری نوعیت کے مسائل ہی ترجیح اول بنے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے طویل المدتی اہداف پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ملک کے سیاسی اور اقتصادی پس منظر میں بار بار آنے والے مالیاتی بحران اور سکیورٹی خدشات نے حکومتوں کو مستقل طور پر 'فائر فائٹنگ' کے موڈ میں رکھا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے درجنوں آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیجز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی مشینری کا بیشتر وقت طویل المدتی ترقیاتی ڈیزائن کے بجائے قلیل المدتی مالیاتی بقا کی جنگ لڑنے میں صرف ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی عدم استحکام، سیلاب جیسی قدرتی آفات اور حکومتوں کی قبل از وقت تبدیلیوں نے ادارہ جاتی تسلسل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہر نئی حکومت کے آنے کے ساتھ ہی پچھلے منصوبے ردی کی ٹوکری میں چلے جاتے ہیں اور طویل المدتی وژن کسی ایک فرد کی شخصیت یا چند ماہ کے پراجیکٹ تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔
بیوروکریسی کا موجودہ نظام بھی ایسی پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو غیر یقینی صورتحال کا اعتراف کرتے ہوئے مختلف ممکنہ مستقبل کے تخمینے پیش کریں۔ یہاں قطعی اور روایتی یقین دہانیوں کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق لچکدار حکمت عملی اپنانے کے رجحان کی کمی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منصوبہ بندی کے اختیارات تو تفویض کر دیے گئے، لیکن اس منتقلی کے ساتھ نہ تو کوئی تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا گیا اور نہ ہی کوئی ایسا مستقل انفراسٹرکچر بنایا گیا جو زمینی حقائق کا احاطہ کر سکے۔ نتیجے کے طور پر، ہر اکائی اپنے طور پر محدود وسائل اور بغیر کسی مربوط قومی وژن کے فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔
دنیا بھر کی کامیاب مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ طویل المدتی پالیسی سازی کسی فرد کی مرضی نہیں بلکہ قانون، مستقل بجٹ اور حکومتی ڈھانچے کا حصہ ہوتی ہے۔ سنگاپور، فن لینڈ، برطانیہ، اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک میں پارلیمنٹ یا وزیراعظم کے ماتحت مستقل ادارے موجود ہیں جو حکومتی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر مسلسل مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ چین کے فائیو ایئر پلانز اور امریکہ کی گلوبل ٹرینڈز رپورٹس اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ پائیدار ترقی کے لیے مستقل فیڈ بیک لوپس اور اداروں کا تسلسل کتنا ضروری ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی گورننس کی اس خامی کو دور کرنے کے لیے ذاتی پسند و ناپسند سے نکل کر مستقل نوعیت کے ادارہ جاتی فریم ورک کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ بحرانوں سے مستقل جان چھوٹ سکے۔