Pakistan
قومی اسمبلی کمیٹی کے حج پالیسی 2027-2030 پر تحفظات
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں آئندہ چند سالوں کی حج پالیسی پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اراکین نے پالیسی کے بعض اہم خدوخال اور انتظامات پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے حالیہ اجلاس میں سال 2027 سے 2030 تک کے لیے تشکیل دی جانے والی طویل المدتی حج پالیسی پر شدید بحث کی گئی اور اس پر اہم تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کے دوران اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ عازمینِ حج کو مزید بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس پالیسی کے بنیادی خدوخال کا از سر نو جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے حج اخراجات، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے معاملات میں شفافیت لائی جانی چاہئے۔ اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے کمیٹی کو مجوزہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی، تاہم اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کے بعد معاملے پر مزید غور و خوض کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عازمین کے مالی بوجھ کو کم کرنے اور انہیں بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب میں قیام اور سفری انتظامات کے حوالے سے پاکستان اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ وزارت کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں ان تمام اعتراضات کا تفصیلی جواب پیش کریں تاکہ پالیسی کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام تر خامیوں کو دور کیا جا سکے۔