Business
عالمی منڈی میں تیل مہنگا، امریکا ایران کشیدگی کا اثر
امریکا اور ایران کے مابین جاری تعطل کے اثرات عالمی منڈی پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایشیائی حصص بازاروں میں سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور مارکیٹس میں ہلکی ہلکی بے یقینی پائی جاتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی اہم وجہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی اور سفارتی تعطل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی لائنز سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی منڈیوں میں اضطراب کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اس صورتحال کے اثرات براہِ راست دنیا بھر کے معاشی اعشاریوں پر پڑ رہے ہیں۔
اس کشیدگی کے سائے صرف تیل کی منڈی تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایشیا کے اسٹاک مارکیٹس بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ایشیائی حصص بازاروں میں آج کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار رہیں اور انڈیکس میں ملا جلا یا غیر یقینی رجحان دیکھا گیا۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے بڑی احتیاط سے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ کسی بھی ناگہانی واقعے کی صورت میں عالمی تجارت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں تناؤ کی کیفیت برقرار رہنے تک تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سرمایہ کار طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں اور وہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں حکومتوں اور مرکزی بینکوں کی جانب سے بھی حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ معاشی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔