LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.4 فیصد پر آگئی

News Image
امریکہ میں جولائی کے مہینے کے دوران مہنگائی کی رفتار میں توقع کے مطابق کمی واقع ہوئی ہے جس سے سالانہ شرح 3.4 فیصد پر آ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد حصص بازار میں مثبت رجحان دیکھا گیا اور سرمایہ کاروں میں اطمینان پایا جاتا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ میں جولائی کے مہینے کے دوران مہنگائی کی رفتار میں توقع کے مطابق سست روی دیکھی گئی ہے، جس سے معاشی ماہرین اور سرمایہ کاروں نے سکون کا سانس لیا ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں کنزیومر پرائسز میں 0.1 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 3.4 فیصد پر آ گئی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بالکل اسی توقع کے مطابق ہیں جو مارکیٹ میں پہلے سے لگائی جا رہی تھیں۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وال اسٹریٹ اور اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا گیا اور ڈاؤ جونز انڈیکس نے اونچے درجے پر کاروبار کا آغاز کیا۔ ماہرین کے مطابق گیس اور توانائی کی قیمتوں میں کمی نے اس مہینے مجموعی مہنگائی کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم روزمرہ استعمال کی اشیاء اور دیگر اخراجات اب بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ باوجود اس کے کہ مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے، مرکزی بینک اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ کی مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے فیصلوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا معیشت اب مکمل طور پر اعتدال کی طرف گامزن ہو چکی ہے یا نہیں۔ اس تازہ افراط زر کے اعداد و شمار نے مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی جان ڈال دی ہے اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کا یہ رجحان آنے والے مہینوں میں بھی برقرار رہا تو عوام کو مزید ریلیف ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔