LIVE
Loading Breaking News...

ایپل آئی فون 18 لانچ اور قیمتوں میں اضافے کی تازہ ترین خبریں

News Image
رپورٹس کے مطابق ایپل کمپنی رواں سال آئی فون 18 کی لانچنگ کو موخر یا اس میں تبدیلی کرنے پر غور کر رہی ہے۔ میموری کی قلت اور پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے سمارٹ فونز کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق کمپنی رواں سال مبینہ طور پر آئی فون 18 کی لانچنگ کو چھوڑنے یا اس میں بڑی تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حوالے سے مختلف عالمی تکنیکی پلیٹ فارمز جیسے کہ میک ریومرز اور ٹرینڈ فورس نے رپورٹس جاری کی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپل کو سمارٹ فونز کی تیاری میں کچھ اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ میموری کی شدید قلت کی وجہ سے کمپنی نے اپنے سال 2026 کے ہارڈویئر شپمنٹس کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے مارکیٹ میں نئی مصنوعات کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب انڈسٹری کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی فون 18 پرو کی تیاری کی لاگت (BOM Cost) میں تقریبا 40 فیصد تک اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ لاگت میں اس ہوشربا اضافے کے بعد ایپل کو اپنے منافع کے مارجن کو برقرار رکھنے یا شپمنٹس کو جاری رکھنے کے لیے کڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ صنعت کے مبصرین کا ماننا ہے کہ چپ مہنگی ہونے کی اس لہر کو چپ فلایشن (Chipflation) کا نام دیا جا رہا ہے جو نہ صرف ایپل بلکہ پوری موبائل انڈسٹری کو متاثر کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پرانے اور نئے آئی فونز کی قیمتوں میں آنے والے وقت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے اور بعض اندازوں کے مطابق قیمتوں میں 10 ہزار روپے تک کا اضافہ بھی ممکن ہے۔ ایپل کی جانب سے تاحال اس صورتحال پر کوئی باضابطہ حتمی بیان سامنے نہیں آیا تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پیداواری لاگت اسی طرح بڑھتی رہی تو صارفین کو مہنگے داموں آئی فون خریدنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔