World
سائمن لیوی کو دوہرے قتل اور زیادتی پر عمر قید کی سزا
برطانیہ کے علاقے ٹوٹنہم سے تعلق رکھنے والے سائمن لیوی کو دو خواتین کے قتل اور ایک خاتون سے زیادتی کے جرم میں عمر بھر کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عدالت نے سنگین جرائم پر مجرم کی سرزنش کرتے ہوئے اسے تاحیات سلاخوں کے پیچھے رکھنے کا حکم صادر کیا ہے۔
برطانیہ کے علاقے ٹوٹنہم سے تعلق رکھنے والے ایک مجرم سائمن لیوی کو قانون کی کڑی گرفت میں لاتے ہوئے دو معصوم خواتین کے قتل اور ایک تیسری خاتون سے زیادتی کے جرم میں عمر قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مجرم نے انتہائی ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا ہے جو کہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم کے زمرے میں آتے ہیں، اور معاشرے میں ایسے افراد کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سائمن لیوی نے نہ صرف دو خواتین کی جان لی بلکہ ایک اور خاتون کے ساتھ زیادتی کا انتہائی قبیح فعل بھی کیا۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد اور فرانزک رپورٹس اتنی مضبوط تھیں کہ عدالت کے لیے ملزم کے جرم کو ثابت کرنے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ متاثرہ خاندانوں اور انصاف کے متوالوں نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اسے قانون کی بالادستی قرار دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو معاشرے سے الگ کر دینا ہی بہتر ہے تاکہ عام شہریوں بالخصوص خواتین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سائمن لیوی اب اپنی باقی تمام زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے گا، اور اسے کسی قسم کی پیرول یا قبل از وقت رہائی کی سہولت بھی حاصل نہیں ہوگی۔ اس مقدمے کو برطانوی عدالتی تاریخ میں سنگین جرائم کے خلاف ایک اہم فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔