World
برطانیہ کی معاشی ترقی اور ایران جنگ: برہم کا اہم انتباہ
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ برہم نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران سے سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے اگلے سال برطانوی معیشت کی ترقی کا پہیہ سست پڑ سکتا ہے۔
برطانیہ میں سیاسی اور معاشی حلقوں کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی ابتر ہوتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین انتباہ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع مزید بڑھا اور جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کے براہ راست اور منفی اثرات اگلے سال برطانوی معاشی ترقی پر مرتب ہوں گے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بین الاقوامی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے تنازعات عالمی سطح پر معاشی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ موجودہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف صنعتی پیداوار مہنگی ہو گئی ہے بلکہ عام صارفین کے لیے بھی زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں کا یہ اچانک اور غیر معمولی ابال معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے کارخانوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ تیل کی فراہمی میں تعطل اور قیمتوں کے عدم استحکام سے صنعتی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ، اس تنازع نے بین الاقوامی سپلائی چین یا رس رسد کے نظام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اہم سمندری راستوں اور تجارتی گزرگاہوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے سامان کی ترسیل طویل اور مہنگی ہو گئی ہے۔ برطانوی معیشت، جو پہلے ہی افراط زر اور دیگر داخلی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اس نئی بیرونی آفت کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اگر سپلائی چین کا یہ بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو برطانیہ میں اشیا کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں، ماہرین اور معاشی تجزیہ کار حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اگلے سال برطانوی معیشت کو بحالی کی بجائے مزید گہرے جمود اور کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے عام آدمی کا معیار زندگی بھی متاثر ہو گا۔