World
مقبضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملے اور نفرت انگیز نعرے
مقبضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے گھروں اور اسکولوں پر نسل پرستانہ نعرے درج کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کرنا اور خوف وہراس پھیلانا ہے۔
مقبضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز کارروائیوں اور حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ ترین واقعات میں، مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کے گھروں اور اسکولوں پر نسل پرستانہ اور توہین آمیز گرافٹی بنائی گئی ہے جس میں "جہنم میں جل جاؤ" جیسے نعرے درج ہیں۔ اس قسم کی مجرمانہ کارروائیوں کا مقصد مقامی فلسطینی آبادی کو خوف زدہ کرنا اور انہیں ان کی آبائی زمینوں سے جبراً بے دخل کرنا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملے کسی اچانک کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی نظریاتی مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا ہے۔ آباد کار کھلے عام فلسطینی املاک کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں تاکہ وہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کے پرتشدد واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔
فلسطینی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں روزمرہ کی زندگی میں سخت حفاظتی چیلنجز کا سامنا ہے اور قابض فورسز کی مبینہ سرپرستی کی وجہ سے آباد کاروں کے حوصلے بلند ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے بارہا یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سخت نوٹس لیں اور فلسطینی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ تاہم، زمینی حقائق کے مطابق اس طرح کی کارروائیوں میں کمی آنے کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو کہ ایک المیہ ہے۔