World
مقبوضہ مغربی کنارہ: طال کے واقعات کے بعد جھڑپیں اور گرفتاریاں
مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں اور جھڑپوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فورسز کی جانب سے چھاپوں، گرفتاریوں اور بندشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال اس وقت شدید کشیدہ ہو گئی جب نابلس کے قریب آباد کاروں کے پرتشدد حملوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے پورے خطے کو آگ اور خون میں دھکیل دیا۔ طال کے علاقے میں پیش آنے والے ان واقعات کے بعد سے علاقے میں مسلسل چھاپوں، توڑ پھوڑ، آتش زنی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق قابض فورسز کی طرف سے سختی میں اضافے اور راستوں کی بندش نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے اور ہر طرف خوف و ہراس کا عالم ہے۔ اس ہفتے کے دوران مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جن میں اشتعال انگیز کارروائیوں کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی پہلے سے نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے کیونکہ دونوں جانب سے مزاحمت اور کارروائیوں میں شدت آ رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے کئی علاقوں میں محاصرہ کر رکھا ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت تلاشی کا عمل جاری ہے جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں اور روزمرہ کا کاروبار بھی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم تحال اس بحران کے خاتمے کے لیے کوئی موثر سیاسی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ مقامی فلسطینی آبادی کو اس وقت شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے مشترکہ دباؤ کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔