Technology
ناسا کی نئی راکٹ ٹیکنالوجی مریخ کا سفر کم کرے گی
ناسا کے سائنسدانوں نے ایک نئے لیتھیم سے چلنے والے الیکٹرو مقناطیسی تھرسٹر کی کامیاب ٹیسٹنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی سے مریخ تک کا طویل سفر نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مریخ تک کے طویل سفر کا وقت انتہائی کم کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر کی جانب سے حال ہی میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایجنسی نے ایک لیتھیم سے لیس الیکٹرومیگنیٹک تھرسٹر کی جانچ کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے روایتی طریقوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رفتار حاصل کی جا سکتی ہے، جو خلائی تاریخ میں ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
ماضی میں مریخ کا سفر مہینوں پر محیط ہوتا تھا جس کی وجہ سے خلانوردوں کو طویل مدتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور خوراک، پانی نیز دیگر وسائل کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہوتا تھا۔ اب اس نئی برقی مقناطیسی ٹیکنالوجی کے استعمال سے رفتار میں حیرت انگیز اضافہ ہوگا اور سفر کا دورانیہ کم ہو کر چند ہفتوں تک محدود ہونے کا امکان ہے۔ اس پیش رفت کو خلائی سفر کے میدان میں 'اگلا بڑا قدم' قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے راہیں ہموار کرے گا۔
ناسا کے محققین کا کہنا ہے کہ تھرسٹر کے حالیہ ٹیسٹ تمام مقررہ معیارات پر پورے اترے ہیں اور اس دوران انجن نے توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں لیتھیم آئنز کا استعمال کیا جاتا ہے جو انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان کی مدد سے خلائی جہاز کو غیر معمولی رفتار فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عملی طور پر باقاعدہ خلائی مشنز میں شامل کرنے سے پہلے مزید جانچ پڑتال کے مراحل سے گزرنا ہوگا، تاہم ابتدائی نتائج نے دنیا بھر کے سائنسدانوں اور خلائی شائقین میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔