World
سمن لیوی کو عمر قید، دوہرے قتل اور زیادتی کے مجرم کو سخت سزا
برطانیہ میں دو خواتین کے قتل اور ایک کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے سمن لیوی کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت کے باہر مقتولین کے لواحقین نے مجرم کے لیے سخت ترین ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے تاحیات جیل میں رکھنے کا مطالبہ کیا۔
برطانیہ میں ایک ہولناک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے دو خواتین کے قتل اور ایک خاتون کو عصمت دری کا نشانہ بنانے والے مجرم سمن لیوی کو تاحیات قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی تھی اور انصاف کے حصول کے لیے ایک طویل قانونی جنگ لڑی گئی۔ عدالت کی جانب سے مجرم کو تمام الزامات کے تحت عمر قید کی سزا دیے جانے پر متاثرہ خاندانوں نے سکھ کا سانس لیا ہے تاہم ان کے زخم ابھی تک ہرے ہیں۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتولین اور متاثرہ خواتین کے رشتہ داروں نے اپنے غم اور غصے کا کھل کر اظہار کیا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ سمن لیوی جیسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب درندے معاشرے میں رہنے کے لائق نہیں ہیں اور انہیں تا حیات سلاخوں کے پیچھے ہی سڑنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مجرم کے اقدامات نے نہ صرف معصوم جانیں لیں بلکہ خاندانوں کو تاحیات کا دکھ بھی دے دیا ہے، اس لیے عدالت کی جانب سے دیا جانے والا یہ فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں شواہد اتنے مضبوط تھے کہ مجرم کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ تحقیقاتی اداروں نے عرق ریزن محنت کے بعد تمام سائنسی اور فارنزک شواہد عدالت میں پیش کیے جن کی بنیاد پر جج نے سمن لیوی کو عمر قید کی سزا دینے کا فیصلہ صادر کیا۔ معاشرتی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اور ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی درندگی کا سوچ بھی نہ سکے۔