World
آبِ ہرمز تجارتی بحران اور ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان
جنگ کے آغاز اور امن مذاکرات میں تعطل کے بعد آبِ ہرمز سے گزرنے والی کشتیوں کی یومیہ تعداد صرف آٹھ رہ گئی ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکہ اس اہم بحری گزرگاہ پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔
عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی حامل بحری گزرگاہ آبِ ہرمز سے گزرنے والی تجارتی کشتیوں اور جہازوں کی تعداد میں انتہائی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ جنگ کے آغاز اور امن مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے کے بعد اب یومیہ صرف آٹھ کشتیاں اس آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہو سکی ہیں۔ یہ تعداد جنگ سے پہلے کی صورتحال کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، کیونکہ جنگ سے قبل روزانہ کی بنیاد پر 130 سے 140 بحری جہاز اس اہم راستے سے گزرتے تھے۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت اور سپلائی چین کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس دعوے کو دہرایا ہے کہ امریکہ آبِ ہرمز کے خطے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہم بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی اور صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور حالات کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی اس قدر کم سطح عالمی منڈی میں تیل اور دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے تاجر اور انرجی مارکیٹس اس بحران کے طویل المدتی اثرات سے بچنے کے لیے فوری سفارتی حل اور امن مذاکرات کی بحالی کے خواہاں ہیں، تاکہ اس اہم تجارتی راستے کو دوبارہ مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔