World
لبنان میں معافی اور سزائے موت کا قانون منظور، قیدیوں کو ریلیف
لبنان کی پارلیمنٹ نے ملک میں سزائے موت کے خاتمے کے ایک ہی روز بعد ایک اہم اور طویل عرصے سے زیر التوا معافی کا قانون منظور کر لیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق اس قانون کے تحت بعض قیدیوں کی سزاؤں میں استثنائی طور پر کمی کی جائے گی۔
بیروت: لبنان کی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی قانون سازی کے تحت ملک میں معافی کا نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے محض ایک دن قبل ہی قانون سازوں نے ملک میں سزائے موت کے خاتمے کا فیصلہ کیا تھا، جس نے انسانی حقوق کے حامی حلقوں کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ اس تازہ ترین قانون سازی کا مقصد ملک کے جیل خانوں کے نظام میں بہتری لانا اور طویل عرصے سے زیر التوا عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لبنان کے پارلیمنٹ کے اسپیکر نے واضح کیا کہ یہ نئی قانون سازی انتہائی خصوصی اور غیر معمولی نوعیت کی ہے، جس کے تحت مخصوص زمرے کے قیدیوں کی سزاؤں میں 'استثنائی' طور پر کمی کی جائے گی۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس قدم سے جیلوں میں قیدیوں کے رش کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور کئی ایسے افراد کو ریلیف ملے گا جو طویل عرصے سے جیلوں میں بند تھے۔
ملک میں حالیہ قانونی اصلاحات کو سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ جہاں ایک طرف انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے سزائے موت کو ختم کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے، وہیں دوسری طرف اس معافی کے قانون کے نفاذ اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے لبنان کے عدالتی اور اصلاحاتی نظام میں ایک نیا باب کھلے گا، تاہم اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے مزید قانونی لائحہ عمل کی ضرورت ہوگی۔