LIVE
Loading Breaking News...

اے جے کے انتخابات: میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ ن کی شاندار کامیابی

News Image
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے میرپور ڈویژن میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ن لیگ نے 9 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران میرپور ڈویژن کی تیرہ میں سے نو نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق یہ انتخابات سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر تین مختلف مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں سے پہلا مرحلہ پیر کے روز میرپور ڈویژن میں مکمل ہوا۔ پولنگ کے دوران مختلف مقامات پر ہلکی پھلکی جھڑپیں، تشدد کے واقعات اور دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے جہاں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ فارم 26 اور فارم 27 کے مطابق ن لیگ نے نو جبکہ پیپلز پارٹی نے چار نشستیں اپنے نام کیں۔ حلقہ وار نتائج کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) نے میرپور، بھمبر اور کوٹلی کے اضلاع میں کئی اہم نشستوں پر کامیابی سمیٹی۔ میرپور ضلع کے ڈڈیال اور کھारी شریف، بھمبر کے بارنالہ، سماہنی اور بھمبر جبکہ کوٹلی کے نکیال، سہنسہ، چڑhoi اور کھوئی رٹہ میں ن لیگ کے امیدوار کامیاب قرار پائے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے میرپور شہر کے اہم حلقے، چکساواری اور کوٹلی کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حلقہ ایل اے 1 میرپور سے ن لیگ کے اظہر صادق نے 15,427 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مد مقابل محمد افضل شاہد 9,832 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح دیگر حلقوں میں بھی دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مراحل بالترتیب دو اگست اور دس اگست کو منعقد ہوں گے جن میں مظفر آباد ڈویژن، مہاجر حلقوں اور پونچھ ڈویژن کے اضلاع میں پولنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ چیف الیکشن کمیشن نے اپنے ایک بیان میں پیر کی شب ان انتخابات کو آزاد کشمیر کی تاریخ کے 'سب سے مشکل' انتخابات قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معمولی واقعات کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے اکثر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔