World
برطانیہ میں جیلوں کا بحران اور پولیس قاتلوں کی رہائی کا تنازع
برطانیہ میں جیلوں کے نظام کو شدید بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے پولیس کانسٹیبل اینڈریو ہارپر کے قاتلوں سمیت کئی مجرموں کو قبل از وقت رہا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس صورتحال پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں جیلوں کا نظام اس وقت تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے، جہاں جیلوں میں گنجائش ختم ہونے کے قریب ہے اور نظامِ عدل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ اسی دوران پولیس کانسٹیبل اینڈریو ہارپر کے بہیمانہ قتل میں ملوث مجرموں کو بھی حکومت کی ایک متنازع اسکیم کے تحت قبل از وقت رہا کیے جانے کے امکانات سامنے آئے ہیں، جس نے پورے ملک میں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق برطانوی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، جس کی وجہ سے محکمہ جیل خانہ جات کو مجبوراََ ایسے اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں جن کے تحت سزایافتہ مجرموں کو ان کی مدتِ قضا مکمل ہونے سے پہلے ہی رہا کیا جا رہا ہے۔ پولیس کانسٹیبل اینڈریو ہارپر کے قتل کا مقدمہ برطانوی تاریخ کے انتہائی سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والے مقدمات میں سے ایک تھا، اور ان کے قاتلوں کو قبل از وقت رہا کرنے کی خبر نے مقتول کے لواحقین سمیت عام عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
ماہرینِ قانون اور اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی اس پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھے گا اور مجرموں کے حوصلے پست ہونے کے بجائے بلند ہوں گے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ جیلوں میں جگہ کی شدید قلت اور نئے قیدیوں کو رکھنے کی مجبوری کے باعث اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا قابلِ عمل راستہ نہیں بچا۔ اگر فوری طور پر جیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری نہ لائی گئی تو پورا نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔
اس سنگین صورتحال نے برطانوی حکومت کو ایک بڑے سیاسی اور اخلاقی دواہے میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک طرف عوامی تحفظ اور انصاف کا تقاضا ہے تو دوسری طرف جیلوں کے نظام کا عملی طور پر بیٹھ جانا ہے۔ اس تنازع پر بحث کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے اور سول سوسائٹی کے علاوہ پولیس فیڈریشن نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد بالخصوص پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کو کسی بھی رعایت کے بغیر اپنی پوری سزا بھگتنی چاہئے۔