World
ایران، امریکہ اور اسرائیل: بقا کی سیاست اور ممکنہ سفارتی سمجھوتہ
موجودہ پرتشدد بیانات کے برعکس، اسلامی جمہوریہ ایران مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ سکتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق تہران کی تمام پالیسیاں محض علاقائی بقا اور ریاست کے تحفظ کے گرد گھومتی ہیں۔
بین الاقوامی امور کے مبصرین اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے سے عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ ایک سخت گیر سامراج مخالف ریاست ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ایک ایسے ملک کی عکاسی کرتے ہیں جو خالصتاً اپنی بقا کے لیے حساب کتاب اور حکمت عملی کے تحت قدم اٹھا رہا ہے۔ تہران کی جانب سے جاری ہونے والے سخت بیانات اور موجودہ مخاصمانہ ماحول کے باوجود یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آنے والے وقت میں ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی حتمی سفارتی سمجھوتہ یا تصفیے تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی یہ پالیسی کسی نظریاتی جنون کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھھی ریاستی بقا کی کوشش ہے۔ تاریخی پس منظر اور موجودہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تہران کے حکمران اپنی حکومت کے استحکام کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ معاشی پابندیوں اور اندرونی چیلنجز کے دباؤ کے پیش نظر، ایران کے پاس طویل المدتی محاذ آرائی کی بجائے ایک قابل قبول سفارتی راستہ تلاش کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ اگرچہ موجودہ منظر نامے میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور فریقین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے، لیکن سفارتی ذرائع کا اشارہ ہے کہ پس پردہ رابطے اور مفاہمت کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ریاستیں نظریات سے زیادہ اپنے قومی مفاد اور بقا کو اولیت دیتی ہیں اور ایران کا حالیہ طرزِ عمل بھی اسی اصول کی عملی تصویر دکھائی دیتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا تہران، واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جاری اس سرد جنگ کا انجام کسی تاریخی سمجھوتسر پر ہوتا ہے یا کشیدگی کا یہ سلسلہ مزید طول پکڑتا ہے۔