World
آئس لینڈ اور اسپین میں صدی کا مکمل سورج گرہن کا نظارہ
آئس لینڈ اور شمالی اسپین میں ستائیس سال بعد ہونے والے پہلے مکمل سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے لاکھوں افراد جمع ہو گئے۔ حکام نے اس موقع پر جنگلات میں آگ لگنے کے خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔
آئس لینڈ اور شمالی اسپین میں ستائیس سال بعد ہونے والے پہلے مکمل سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں سیاح اور مقامی افراد جمع ہو گئے۔ اس فلکیاتی واقعے کو صدی کا ایک بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے دوران دن کے وقت چند لمحوں کے لیے اندھیرا چھا گیا اور ماحول میں عجیب سا سحر طاری ہوگیا۔ اسپین کے حکام نے شدید گرمی کی لہر کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کی۔ اسپین کی وزارتِ سائنس کے مطابق، ملک کے شمالی حصوں اور جزائر پر چھ ملین تک زائرین کی آمد متوقع تھی تاکہ اس نایاب مظہر کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ اسپین میں اس گرہن کے فوراََ بعد سورج غروب ہونے کا منظر بھی دیکھنے میں آیا، جس نے اس موقع کو مزید دلکش بنا دیا۔ سیکیورٹی کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے پچیس ہزار پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے گئے تاکہ سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور جنگلات میں آگ لگنے کے کسی بھی واقعے کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب، آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکاوک اور دیگر علاقوں میں بھی اس تاریخی موقع پر زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔ آئس لینڈ کے حکام کے مطابق، اس چھوٹے سے نورڈک ملک میں دسیوں ہزار سیاح پہنچے جہاں آنکھوں کو بچانے والے خصوصی چشمے کئی روز پہلے ہی فروخت ہو چکے تھے۔ ناسا سمیت دنیا بھر کے سائنسی اداروں نے بھی اس موقع پر اپنے تحقیقی منصوبے شروع کیے تاکہ گرہن کے دوران ماحول اور فضا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کیا جا سکے۔ یہ نایاب فلکیاتی نظارہ دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے شائقین اور ماہرین فلکیات طویل سفر طے کر کے اسپین اور آئس لینڈ پہنچے تھے۔