LIVE
Loading Breaking News...

زلزلوں کی تباہ کاری کی وجوہات کیا ہیں؟ سائنسی تجزیہ

News Image
کولمبیا اور وینزویلا میں حالیہ تباہ کن زلزلوں کے بعد سائنسدانوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ زلزلوں کی شدت اور تباہی کی اصل وجوہات کیا ہوتی ہیں۔ ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت، زمین کی گہرائی اور ناقص انفراسٹرکچر ایسے اہم عوامل ہیں جو جانی و مالی نقصان میں اضافہ کرتے ہیں۔
کولمبیا میں تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک نے کم از کم ڈھائی سو افراد کی جان لے لی ہے، جبکہ اس سے چند ہفتے قبل پڑوسی ملک وینزویلا میں جڑواں زلزلوں سے چھ ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ ان دلخراش واقعات کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر زلزلے اتنے زیادہ تباہ کن کیوں ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے کون سے سائنسی عوامل کارفرما ہیں۔ ماہرین کے مطابق کولمبیا اور وینزویلا کا علاقہ کئی متحرک ٹیکٹونک پلیٹوں کی حدود میں واقع ہے، جن کی سست اور مسلسل رگڑ سے زبردست توانائی پیدا ہوتی ہے جو وقفے وقفے سے زلزلے کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ کولمبیا کی نیشنل یونیورسٹی کے ارضیاتی ماہر جرمین پریٹو کے مطابق، کولمبیا کا زلزلہ نازکا پلیٹ کے جنوبی امریکی پلیٹ کے نیچے زمین کے کرسٹ میں سرکنے کی وجہ سے آیا، جس کی گہرائی تقریباً ایک سو کلومیٹر تھی۔ زلزلے کی گہرائی نے اگرچہ لہروں کو دور تک پھیلنے کا موقع دیا اور اسے مزید بڑے سانحے سے بچا لیا، لیکن اس کی نوعیت نے شدید نقصان پہنچایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت لاگرتھمک پیمانے پر ناپی جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر اگلا درجہ پچھلے درجے سے کئی گنا زیادہ توانائی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی افقی حرکت سے پیدا ہونے والے زلزلے عمارتوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اس سے زمین کی ہلاکت خیز لہریں سیدھی عمارتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس بھی تباہی کو طول دیتے ہیں، جو پہلے ہی کمزور یا متاثرہ عمارتوں کو گرا دینے کا سبب بنتے ہیں۔ چلی اور جاپان جیسے ممالک زلزلوں سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین اور لچکدار تعمیراتی ڈھانچے استعمال کرتے ہیں، لیکن غیر معیاری ہاؤسنگ اور ناقص انجینئرنگ گنجان آباد شہروں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن ان کے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے مضبوط بلڈنگ کوڈز کا نفاذ اور بین الاقوامی سطح پر ارضیاتی ڈیٹا کا اشتراک انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔