LIVE
Loading Breaking News...

ایل نینو اور سمندروں کی سطح میں اضافہ: نئی موسمیاتی تحقیق

News Image
موسمیاتی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایل نینو کے دوران زمینی پانی کا چکر تبدیل ہوتا ہے جو عالمی سطح پر سمندروں کی سطح میں اضافے کا اہم محرک بنتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس قدرتی مظہر اور آبی وسائل کے درمیان گہرے تعلق کو واضح کیا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی اور جامع تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایل نینو (El Nino) کا موسمیاتی رجحان کس طرح زمین کے اندر اور اوپر موجود پانی کے ذخائر کو متاثر کرتا ہے، جو بالآخر سمندروں کی سطح میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس مطالعے سے زمین کے آبی چکر اور سمندری حرکیات کے درمیان ایک اہم اور پوشیدہ تعلق کا انکشاف ہوا ہے جس نے سائنسدانوں کی توجہ مبذول کر لی ہے۔ محققین کے مطابق، جب ایل نینو کا دورانیہ فعال ہوتا ہے تو دنیا کے مختلف حصوں میں بارشوں اور خشک سالی کے روایتی پیٹرن میں بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں براعظموں پر موجود زمینی پانی، جو کہ دریاؤں، جھیلوں اور زیر زمین ذخائر کی شکل میں ہوتا ہے، بڑی مقدار میں بخارات بن کر یا بہہ کر سمندروں میں آ جاتا ہے۔ یہ عمل دنیا بھر میں سمندر کی سطح کے توازن کو عارضی یا مستقل طور پر بگاڑ دیتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں سمندر کی سطح میں اضافے کی بنیادی وجہ گلیشیرز کا پگھلنا اور سمندری پانی کا حرارت کی وجہ سے پھیلنا سمجھا جاتا تھا، لیکن اس تازہ تحقیق نے زمینی پانی کے اس کردار کو اجاگر کیا ہے جسے پہلے اکثر نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اس مطالعے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوں گے۔ ماہرین کا اس بات پر بھی زور ہے کہ اس طرح کے موسمیاتی مظاہر زمین کے ایکو سسٹم پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اگر زمینی پانی کے وسائل کو بہتر طریقے سے منظم نہ کیا گیا تو آنے والے وقتوں میں ساحلی علاقوں کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ یہ تحقیق عالمی سطح پر ماحولیاتی پالیسیوں کی تشکیل میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔