Health
ڈاکٹر سیريٹا جیمز اور اے پی اے ماڈل لائسنسنگ ایکٹ نفسیات کا مستقبل
قومی اصلاحاتی ادارہ جاتی صحت کی رہنما ڈاکٹر سیريٹا جیمز نے ذہنی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اے پی اے ماڈل لائسنسنگ ایکٹ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ اقدام ورک فورس کے حل کو آگے بڑھانے اور معیاری ذہنی صحت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
قومی اصلاحاتی طرز عمل اور صحت کی رہنما تنظیم آرمر ہیلتھ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ممتاز رہنما ڈاکٹر سیريٹا جیمز نے امریکن سائنسولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) ماڈل لائسنسنگ ایکٹ کی تشکیل میں انتہائی اہم اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ یہ قدم ملک بھر میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے اور پیشہ ورانہ ورک فورس کے مسائل کو حل کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قانون کے ذریعے نہ صرف نفسیات کے شعبے کا مستقبل روشن ہوگا بلکہ مریضوں کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات بھی میسر آئیں گی۔
اس پیش رفت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ذہنی صحت کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے موثر قانونی اور انتظامی ڈھانچے کی اشد ضرورت تھی۔ ڈاکٹر سیريٹا جیمز کی اس کاوش سے پیشہ ورانہ لائسنسنگ کے عمل میں آسانی پیدا ہوگی، جس سے ماہرینِ نفسیات زیادہ مؤثر انداز میں اپنی خدمات انجام دے سکیں گے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ریاستوں کے مابین درپیش رکاوٹوں کو کم کرنا اور اہل ماہرین کو وہاں پہنچانا ہے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آرمر ہیلتھ کے ترجمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہماری ٹیم کے ارکان صحت عامہ کے شعبے میں اس نوعیت کی انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ ڈاکٹر جیمز کی مہارت اور عزم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اے پی اے ماڈل لائسنسنگ ایکٹ تمام اسٹیک ہولڈرز کی توقعات پر پورا اترے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے آنے والے دنوں میں اصلاحاتی اور نجی اداروں دونوں میں ذہنی صحت کی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے براہ راست عام عوام اور مریض مستفید ہوں گے۔