Entertainment
مارس اٹیکس فلم کا جائزہ: ٹم برٹن کی شاہکار سائنس فکشن فلم
مشہور ہدایت کار ٹم برٹن کی 1996 میں ریلیز ہونے والی سائنس فکشن فلم 'مارس اٹیکس' اپنے وقت میں ناظرین کی سمجھ سے باہر تھی۔ تاہم، تین دہائیوں کا سفر طے کرنے کے بعد یہ فلم اب جدید دور میں پہلے سے کہیں زیادہ بہتر اور جاندار معلوم ہوتی ہے۔
سن 1996 میں جب نامور اور انوکھے انداز کے حامل ہدایت کار ٹم برٹن نے اپنی فلم 'مارس اٹیکس!' سنیما گھروں کی زینت بنائی تو اس وقت شائقین اس طنزیہ اور ہلکے پھلکے سائنس فکشن شاہکار کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ یہ فلم اس دور کے روایتی ہالی ووڈ کے خلائی حملے والے بیانیے سے بالکل ہٹ کر تھی، جس کی وجہ سے باکس آفس پر اسے وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس زمانے میں ناظرین زیادہ تر سنجیدہ اور ہائی ٹیک ایکشن فلموں کے عادی تھے، جبکہ مارس اٹیکس نے اپنے مخصوص بلیک ہومر اور بظاہر احمقانہ ایلینز کے ذریعے اس صنف کا مذاق اڑایا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سنیما کا یہ انداز اب کلٹ کلاسک کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔
تین دہائیوں پر محیط طویل سفر کے بعد جب آج اس فلم کو دوبارہ دیکھا جاتا ہے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ٹم برٹن اپنے دور سے کہیں آگے کی سوچ رکھتے تھے۔ فلم کی کہانی، اس کے کیریکٹرز اور اس میں موجود سیاسی و سماجی تنقید آج کے دور کے حالات سے حیرت انگیز مطابقت رکھتی ہے۔ فلم میں انسانی حماقتوں، میڈیا کے کردار اور سیاسی بے بسی کو جس مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، وہ آج کے جدید اور ڈیجیٹل دور میں اور بھی زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے ناظرین اس فلم کے گہرے فلسفے اور منفرد بصری جمالیات کو خوب سراہ رہے ہیں۔
اس فلم کی کاسٹ بھی انتہائی جاندار اور ستاروں سے سجی ہوئی تھی، جس میں جیک نکولسن، گلین کلوز، پیرس بروسنان اور نتاشا ہینسٹریج جیسے بڑے نام شامل تھے۔ ٹم برٹن نے اپنے روایتی گوتھک انداز کو چھوڑ کر 1950 کی دہائی کی بی گریڈ سائنس فکشن فلموں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اس پروجیکٹ کا انتخاب کیا تھا۔ فلم کے خصوصی اثرات اور کٹھ پتلیوں کا استعمال اس دور کی تکنیک کے لحاظ سے شاندار تھا، جو آج کے کمپیوٹر جنریٹڈ گرافکس کے دور میں بھی اپنی ایک الگ دلکشی رکھتا ہے۔
آخر کار، وقت نے یہ ثابت کر دیا کہ 'مارس اٹیکس!' اپنے وقت کی سب سے بڑی انڈر ریٹڈ فلموں میں سے ایک تھی۔ جو فلم 1996 میں ناظرین کو ہضم نہیں ہو پائی تھی، آج وہ سنیما کی تاریخ کا ایک اہم اور لازوال باب بن چکی ہے۔ ٹم برٹن کا یہ سجیلا اور انوکھا تجربہ اب شائقین کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ فن پارے اپنی پیدائش کے وقت نہیں بلکہ مستقبل میں جا کر اپنی اصل قد و قیمت پاتے ہیں۔