LIVE
Loading Breaking News...

پینٹاگون تقرریاں: پیٹ ہیگسیتھ کے فیصلوں پر واچ ڈاگز کے سوالات

News Image
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی طرف سے ڈیفنس پالیسی بورڈ میں کی گئی نئی تقرریوں پر حکومتی احتساب کے نگراں اداروں نے کڑی تنقید کی ہے۔ ان اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نئے ارکان کے دفاعی صنعت کے ساتھ براہ راست مالی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے پینٹاگون کے بااثر ڈیفنس پالیسی بورڈ میں کی جانے والی حالیہ تقرریوں نے حکومتی اور دفاعیحلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سرکاری اخلاقیات اور احتساب پر نظر رکھنے والے واچ ڈاگز نے ان تقرریاں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نئے اراکین کے دفاعی صنعت کے ساتھ گہرے اور براہ راست مالی مفادات وابستہ ہیں، جس سے مفادات کے سنگین تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پینٹاگون کے اس اہم ترین پالیسی بورڈ میں شامل کیے جانے والے نئے چہروں میں وینچر کیپیٹل اور دفاعی ٹیکنالوجی سے وابستہ شخصیات بھی شامل ہیں۔ نگراں اداروں کا کہنا ہے کہ دفاعی صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والے افراد کا پینٹاگون کی پالیسی سازی کے عمل کا حصہ بننا پالیسیوں میں غیر جانبدارانہ اور شفاف رویے کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ ناقدین کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ تقرریاں قومی مفاد میں ہیں یا ان کا مقصد مخصوص صنعتی گروہوں کے مالی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ دوسری جانب، پینٹاگون کے ترجمان نے ان الزامات اور خدشات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کے لیے منتخب کی جانے والی شخصیات اپنے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور قومی سلامتی کے امور پر ان کی مہارت بے مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقرریوں کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ تاہم، احتساب کے نگراں اداروں کا اصرار ہے کہ شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس بات کی مکمل جانچ پڑتال ہونی چاہیے کہ پالیسی سازوں کے مالی مفادات ملکی دفاعی فیصلوں پر کس حد تک اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ کانگریس کے کچھ ارکان نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پینٹاگون ان تقرریاں سے متعلق تمام تفصیلات عوامی کرے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ دفاعی پالیسیوں کی تشکیل میں کسی قسم کے ذاتی یا صنعتی مفادات کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پارلیمانی اور عوامی دباؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔