LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں گوشت خور کیڑے کا حملہ اور انسانی ہلاکتیں

News Image
امریکہ کی ریاستوں ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں گوشت خور پردیسی کیڑے 'سکریو ورم' کے حملوں سے پالتو مویشیوں کے بعد اب انسانوں کی بھی اموات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس خطرناک طفیلے سے اب تک پانچ سو سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جس پر طبی ماہرین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کی ریاستوں ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں گوشت خور پردیسی کیڑے کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے جس نے نہ صرف مویشیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے بلکہ اب انسانی جانیں بھی لینی شروع کر دی ہیں۔ طبی حلقوں کے مطابق اس خطرناک طفیلے کی وجہ سے اب تک پانچ سو سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جس کے بعد مقامی سطح پر صحت کا ایمرجنسی پلان زیر غور ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اس خطرناک پردیسی کیڑے کو سائنسی زبان میں 'کوکلیومییا ہومینیوروکس' (Cochliomyia hominivorax) یعنی نیو ورلڈ سکریو ورم کہا جاتا ہے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں ماہرین نے اس گوشت خور طفیلے کی موجودگی کا پتہ لگایا تھا جو بنیادی طور پر جانوروں کو نشانہ بناتا ہے مگر اب یہ انسانوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ اس کیڑے کی افزائش اتنی تیزی سے ہوتی ہے کہ یہ جاندار کے جسم کے زندہ ٹشوز کو کھانا شروع کر دیتا ہے جس سے انفیکشن پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں موت واقع ہو جاتی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور وفاقی صحت کے ادارے اس وباء کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں، اور کسانوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔