LIVE
Loading Breaking News...

مکہ معاہدہ اور ترکی، سعودی عرب، پاکستان تعلقات پر اردوان کا بیان

News Image
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے کا وژن صرف ترکی، سعودی عرب اور پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار خطے اور دنیا کے دیگر حصوں تک پھیلتا ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو رہا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ تاریخی مکہ معاہدے کا وژن محض ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کی त्रی فریق سکیورٹی تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار خطے اور اس سے باہر کے ممالک تک وسعت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اتحاد اور اشتراکِ عمل خطے میں امن، استحکام اور دیرپا خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ برسوں میں خطے کے ممالک کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں بھی نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی مشترکہ دفاعی صلاحیتیں اور عسکری تعاون اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اب یہ ممالک اپنی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے خودمختار فیصلے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی جریدوں اور مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس قسم کے علاقائی معاہدے روایتی سکیورٹی ڈھانچے پر انحصار کو کم کرتے ہیں اور متبادل سکیورٹی گارنٹیز کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ صدر اردوان کے اس بیان کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون کے تناظر میں نہایت معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنے گا۔