LIVE
Loading Breaking News...

عالمی ادارہ صحت کا ٹرمپ کی ویکسین پالیسی پر ردعمل

News Image
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ویکسین سے متعلق حالیہ امریکی پالیسی اور اقدامات طبی شواہد کی نفی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ برسوں کی طبی تحقیقات اور سائنسی شواہد ویکسین کی افادیت کو ثابت کرتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ امریکی وزیر صحت کی جانب سے ویکسین کے حوالے سے دی جانے والی ہدایات اور مؤقف دہائیوں پر محیط سائنسی شواہد کے سراسر خلاف ہیں۔ دنیا بھر کے طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ویکسینز لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو بچانے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہیں اور ان کی تروج و تائید سائنسی تحقیق پر مبنی ہے۔ دوسری جانب، نامزد امریکی وزیر صحت نے طویل عرصے سے یہ بے بنیاد مؤقف اپنا رکھا ہے کہ ایم ایم آر (MMR) ویکسین بچوں میں آٹزم کا سبب بنتی ہے، حالانکہ دنیا بھر کے مستند طبی اداروں اور تحقیقاتی رپورٹس میں اس دعوے کو بارہا مسترد کیا جا چکا ہے اور اس کے حق میں کوئی طبی شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر صحت عامہ کے ماہرین اور سائنسی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس قسم کے بیانات سے عوام کا حفاظتی ٹیکہ جات پر اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے جو کہ آنے والے وقت میں خطرناک بیماریوں کے دوبارہ ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ صحت عامہ کے فیصلوں کی بنیاد سیاسی یا ذاتی آراء کے بجائے مصدقہ سائنسی حقائق اور دہائیوں کی طبی ریسرچ پر ہونی چاہیے تاکہ دنیا بھر میں انسانوں کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔