LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے خلاف ایران کا سخت مؤقف، میزائلوں کے ذخائر مکمل کرنے کا دعویٰ

News Image
ایرانی پاسداران انقلاب کے مشیروں کا کہنا ہے کہ ملک نے حالیہ تنازعات میں استعمال ہونے والے میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے زیادہ نئے ذخائر تیار کر لیے ہیں۔ تہران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک اس کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، وہ امریکہ کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گا۔
تہران: ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے اعلیٰ مشیروں نے تازہ ترین بیانات میں واضح کیا ہے کہ ایران امریکہ کے سامنے کسی بھی قسم کے دباؤ کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ملک نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ جب تک اس کے جائز مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، وہ امریکہ کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم رہے گا اور اپنی دفاعی جدوجہد جاری رکھے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس وقت خطے میں توازن طاقت ایران کے حق میں بہتر ہو رہا ہے اور ملک نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے دوران جو میزائل اور ڈرون طیارے استعمال ہوئے تھے، ایران نے ان کی تعداد سے کہیں زیادہ نئے اور جدید میزائل اور ڈرون تیار کر کے اپنے ذخائر میں شامل کر لیے ہیں۔ اس طرح دفاعی پیداوار کی رفتار نے استعمال ہونے والے اسلحے کی کمی کو بہت کم عرصے میں پورا کر دیا ہے، جس سے ملک کی دفاعی صلاحیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایرانی مشیروں نے امریکی دفاعی ذخائر کے حوالے سے بھی اہم دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل جاری رہنے والے تنازعات کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس موجود اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ امریکی دفاعی صنعت اس رفتار سے نئے گولہ بارود کی فراہمی میں مشکلات کا شکار ہے جو موجودہ جنگی حالات کے تقاضے ہیں۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کا یہ تازہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی ڈیڈ لاک برقرار ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں اور عسکری چالوں پر ہوگا۔