Business
ریٹیلرز کے لیے الیکٹرانک شیلف لیبلز اور سرویلنس پرائسنگ پر نئی پابندیاں
امریکہ میں صارفین کے حقوق کے ادارے اور اٹর্نی جنرل ریٹیلرز کی جانب سے الیکٹرانک شیلف لیبلز کے ذریعے کی جانے والی نگرانی اور قیمتوں کے تعین کے طریقوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وفاقی دباؤ میں اضافے کے بعد دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بند کریں۔
امریکہ کے مختلف حصوں میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں اور سرکاری حکام کی جانب سے ریٹیل انڈسٹری میں قیمتوں کے تعین کے جدید طریقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں نیویارک کی اٹর্نی جنرل لیٹیشیا جیمز نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ریٹیلرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ الیکٹرانک شیلف لیبلز کا استعمال صارفین کی نگرانی اور غیر منصفانہ قیمتوں کے تعین کے لیے بند کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صارفین کی خریداری کی عادات کا ڈیٹا جمع کرنے اور عین وقت پر قیمتیں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے جو کہ صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ کنزیومر ایڈووکیٹس تنظیم 'اے اے آر پی' نے بھی اس مہم میں بھرپور شرکت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی سطح پر سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔ اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بڑی ریٹیل چینز کو اپنی پالیسیوں میں فوری تبدیلیاں لانا ہوں گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تجارتی اداروں اور دکانداروں کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے نام پر خریداروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے یا ان کی پرائیویسی پامال کرنے کے عمل کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عام شہریوں کے معاشی حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔