LIVE
Loading Breaking News...

امریک میں واٹر انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، ایران سے جڑے ہیکرز ملوث

News Image
ایران سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے نیو جرسی اور الاباما میں امریکی واٹر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد ایسے تصدیق شدہ حملوں کی زد میں آنے والی امریکی ریاستوں کی تعداد کم از کم بارہ ہو گئی ہے۔ ان سائبر حملوں کے نتیجے میں سروسز میں محدود پیمانے پر تعطل ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں۔
ایران سے منسلک مبینہ ہیکرز کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس میں تازہ ترین واقعات نیو جرسی اور الاباما کی واٹر تنصیبات میں پیش آئے ہیں۔ ان تازہ حملوں کے بعد ملک بھر میں ایسے تصدیق شدہ سائبر حملوں سے متاثر ہونے والی ریاستوں کی مجموعی تعداد کم از کم بارہ تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق، ان حملوں کے نتیجے میں واٹر سسٹمز کے آپریشنز میں اگرچہ محدود پیمانے پر تعطل ضرور آیا ہے، تاہم کسی بڑے نقصان یا ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لیے متعلقہ ادارے فوری طور پر حرکت میں آ گئے ہیں۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین اس لہر کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ پانی کی فراہمی کا نظام کسی بھی ملک کے لیے انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہوتا ہے۔ امریکی حکام اور متعلقہ سکیورٹی ایجنسیاں اس پورے معاملے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہی ہیں تاکہ انفراسٹرکچر کو مزید کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے اور اس طرح کی تخریبی کارروائیوں کا تدارک کیا جا سکے۔ واٹر انفراسٹرکچر پر ہونے والے ان سائبر حملوں نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کر دیا ہے کہ اہم سرکاری اور نجی تنصیبات کو جدید ترین ڈیجیٹل سکیورٹی فراہم کرنے کی کتنی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے دراصل ڈیجیٹل جنگ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جہاں روایتی سرحدوں سے باہر بیٹھے گروہ اہم ملکی تنصیبات کو ہدف بناتے ہیں۔ وفاقی ادارے اور صوبائی حکام مل کر اس سکیورٹی خلا کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔