Technology
اے آئی پین ٹیسٹنگ اور تصدیق کا چیلنج - نیکسورا نیوز
آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی پین ٹیسٹنگ سیکیورٹی ٹیموں کو ایسے بے شمار نتائج سے دوچار کر دیتی ہے جن کی فوری تصدیق کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والے 'ویلیدیشن ڈیٹ' یعنی تصدیق کے قرض سے نمٹنا آج کی آئی ٹی انڈسٹری کا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی مدد سے کی جانے والی پین ٹیسٹنگ یا سائبر سیکیورٹی چیکنگ نے جہاں ایک طرف عمل کو تیز کیا ہے، وہیں دوسری طرف اس نے سیکیورٹی ٹیموں کے لیے ایک نیا دردِ سر بھی پیدا کر دیا ہے۔ اے آئی سسٹمز انتہائی تیزی سے کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی تو کر دیتے ہیں، لیکن ان بے شمار نتائج کی تصدیق کرنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ اس صورتحال کو ماہرین نے 'ویلیدیشن ڈیٹ' یعنی تصدیق کا قرض قرار دیا ہے، جو دریافت کا دائرہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
اس مسئلے کی مثال ایک ایسی کہانی کی مانند دی جاتی ہے جہاں جادوگر کے شاگرد نے جادو کے ذریعے جھاڑو کو پانی لانے کا حکم دیا تو وہ لامتناہی طور پر پانی لاتا رہا یہاں تک کہ سیلاب آ گیا۔ بالکل اسی طرح اے آئی ٹیسٹنگ ٹولز بھی سیکیورٹی کے بے شمار انتباہات اور رپورٹس پیدا کر دیتے ہیں، جنہیں چھانٹنا اور ان کی درستی کی جانچ کرنا انسانوں کے لیے ایک انتہائی تھکا دینے والا اور طویل عمل ثابت ہوتا ہے۔ ٹیمیں اس بات پر پریشان رہتی ہیں کہ کون سا خطرہ حقیقی ہے اور کون سا محض ایک غلط انتباہ (فالس پازیٹو) ہے۔
نتیجتاً، تنظیمیں اس وقت ایک عجیب کشمکش کا شکار ہیں کیونکہ وہ ڈیٹا کے اس سیلاب سے نمٹنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی جا رہی ہیں۔ جب تک ماہرینِ تعلیم اور سیکیورٹی پروفیشنلز ان تمام رپورٹس کا دستی طور پر جائزہ نہیں لیتے، اس وقت تک اے آئی کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہتی۔ اس چیلنج نے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور سیکیورٹی انڈسٹری کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اے آئی ٹیسٹنگ کے طریقہ کار پر نظرثانی کریں تاکہ معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔