Technology
ٹیسلا کا ٹیکساس میں دس ارب ڈالر کا سولر فیکٹری منصوبہ
ٹیسلا نے ٹیکساس کے علاقے فورٹ بینڈ کاؤنٹی میں دس اعشاریہ ایک بلین ڈالر کی لاگت سے ایک نئے سولر سیل کارخانے کے قیام کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ اس پروجیکٹ کا نام پراجیکٹ کرسٹل سن رکھا گیا ہے جس سے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
معروف الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی کی مصنوعات بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا نے ٹیکساس میں توانائی کے شعبے کا ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے دس اعشاریہ ایک بلین ڈالر کے سولر سیل کارخانے کے قیام کے لیے باضابطہ درخواست دائر کر دی ہے۔ ٹیکساس کمٹرولر کی جانب سے جاری کردہ ٹیکس مراعات کی درخواست کے مطابق اس نئے اور بڑے صنعتی منصوبے کو پراجیکٹ کرسٹل سن کا خفیہ نام دیا گیا ہے جو کہ ریاست کے علاقے فورٹ بینڈ کاؤنٹی میں قائم کیا جائے گا۔ اس فیکٹری کا مقصد قابل تجدید توانائی کے حصول کو مزید آسان بنانا اور سولر پینلز کی تیاری میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔
ٹیکس کی اس درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پروجیکٹ کے ذریعے مقامی سطح پر ہزاروں مستقل ملازمتیں پیدا ہوں گی جس سے نہ صرف معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ ٹیکساس کا خطہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا۔ ٹیسلا کمپنی پہلے ہی ٹیکساس میں اپنی بڑی پیداوار اور کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر منتقل کر چکی ہے اور اس نئے سولر پروجیکٹ سے ریاست میں کمپنی کی سرمایہ کاری میں مزید نمایاں اضافہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام ٹیسلا کے اس طویل مدتی ہدف کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عالمی سطح پر روایتی توانائی کے انحصار کو کم کرکے ماحول دوست اور پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ سولر سیلز کی اس نئی فیکٹری کے قیام سے نہ صرف امریکہ میں صاف توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جاسکے گا بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی مسابقت کو بہتر بنایا جاسکے گا۔
کمپنی اور متعلقہ مقامی حکام کے درمیان اس پراجیکٹ کے حوالے سے قانونی اور انتظامی امور پر بات چیت جاری ہے جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس منصوبے کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات بھی سامنے آئیں گی۔ ٹیسلا کے اس اقدام کا مقصد مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت کو وسعت دینا ہے۔