World
بحیرہ احمر میں حوثی حملہ: چھ افراد جاں بحق، پاکستانی ملاح بھی شامل
بحیرہ احمر میں حوثی جنگجوؤں کے حملے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جو کہ گزشتہ ایک سال میں اس خطے میں ہونے والا پہلا جانی نقصان ہے۔ اس حملے میں تین پاکستانی ملاحوں کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے جبکہ امریکی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کنٹینر جہاس کو نشانہ بنایا ہے۔
بحیرہ احمر میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں حوثی جنگجوؤں کے ایک حالیہ اور شدید حملے کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں میں یہ پہلا جانی نقصان ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر سخت تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں تین پاکستانی ملاح بھی شامل ہیں، جن کی موت پر پاکستانی حکومت اور عوام میں گہرا دکھ پایا جاتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اس واقعے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے اور خطے میں میری ٹائم کولیشن یا بحری اتحاد کے فیصلوں کو پورے عزم کے ساتھ نافذ کیا جائے گا تاکہ سمندری تجارت اور ملاحوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، دوسری جانب اس صورتحال نے بین الاقوامی تجارت اور جہاز رانی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس حملے کے فوراً بعد امریکہ نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خطے میں جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ امریکی فوج کی جانب سے ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنازعہ اب مزید پھیلنے کا خطرہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل کے بعد اس قسم کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو کہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ معصوم جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی بحفاظت آمدورفت کو بحال کیا جا سکے، تاہم موجودہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے فوری امن کی امید کم ہی نظر آتی ہے۔